امریکا اور چائنہ اس وقت دنیا کی دو بری قوتیں ھین۔ امریکا ایک تنزلی کی جانب مائل سوپر پاور مانا جا رہا ہے تو وہین چین کو اس وقت ایک اُبھرتی ھوئی قوت مانا جا رہا ہے۔اس وقت اِن دو بڑی قوتوں کے درمیان دنیا پہ اپنا اثر بڑھانے کی اسٹرگل جاری ہے۔ اور عالمی طاقتون کی اس رسہ کچھی کا اثر پھر دنیا کے کئی اور ملکون کے اوپر بھی اس وقت پڑ رہا ہے اور مانا یہ جا آرہا ہے کہ دنیا مین اب کولڈوار کا دوسرا حصہ شروع ھو چکا ہے۔ البتہ یہ یاد رہے کہ یہ جو نئی کولڈ وار شروع ھوئی ہے امریکا اور چین کے بیچ یہ پہلے والی کولڈ وار سے بلکل مختلف ہے جو کہ سویت یونین اور امریکا کے درمیان لڑی گئی۔ اس کولڈ وار کا ایک بڑا فوکس آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے میدان پہ ہے اور یہ وہ ایریا ہے نئے زمانے کی جنگون کی وہ ڈومین ہے جس مین بمشکل دو چار ملک ہی آگے نکلے ھوئے ھین جیسا کہ چین روس اور امریکا، باقی تمام دنیا ان سے کافی زیادہ پیچھے ہے اس میدان مین حالانکہ اب جنگون کی مین ڈومین ہی یہی ھوگی اگلے کچھ سال کے اندر اندر جنگون لڑنے کا انداز ہی دنیا مین بدلنے والا ہے۔ تو اب سوال یہ ہے کہ یہ ملک تو اس نئی ڈومین می...
TEHRAN (Tasnim) – Secretary General of the Lebanese Hezbollah resistance movement Seyed Hassan Nasrallah and Iranian Foreign Minister Hossein Amirabdollahian met in Beirut on Thursday for talks on the latest regional developments. The top Iranian diplomat and the Hezbollah chief exchanged views on regional issues, with a particular focus on Palestine and Lebanon, according to Iran's Ambassador to Beirut, Mojtaba Amani. Amani stated that Amirabdollahian and Nasrallah also discussed potential future events in the region, efforts to halt Israel's atrocities against Gaza, possible scenarios regarding the ongoing war, and the global collective responsibility concerning "the historic and determining development." On Wednesday, Amirabdollahian engaged in talks with Ziad al-Nakhala, Secretary General of the Gaza-based Islamic Jihad movement, Khalil al-Hayya, deputy chief of the political bureau of the Palestinian resistance movement Hamas in Gaza, and other o...