امریکہ اور چائنہ کے بیچ ایک باضابطہ کولڈ وار چھڑ چکی ہے ، دونون قوتیں اس وقت اپنا اپنا ورلڈ آرڈر لانے کے لیے کوششیں کرتی ھوئی نظر بھی آ رھی ھین جس وجہ سے دنیا کے کئی ملکون کے اندر ایک انار کی اور ہیجان کی سی صورتحال ہے۔ امریکہ کسی صورت یہ نہین چاھتا کہ دنیا کے اندر چائنہ ڈومینیٹڈ نظام امریکی ورلڈ آرڈر کو ریپلیس کر پائے۔ اسی کشمکش کے ایک جھلک پاکستان کے اندر بھی غالباً نظر آ رھی ہے اور عالمی طاقتین اس وقت وھان مکمل طور پہ فعال ھین جس وجہ سے ایک سیاسی ہیجان وھان اس وقت برپا ہے۔ اپوزیشن کی ساری جماعتیں اس وقت عمران خان کی سرکار کو گھر بھیجنے کے لیے ایک نکتے پہ جمع ھو چکی ھین۔ کیا مولوی کیا لبرل ساری ھی حزبِ اختلاف کی جماعتیں اپنی سیاسی وابستگی نظریات اصول بالائے طاق رکھ کے صرف اس مدعی پہ اکٹھی ھو گئی ھین اچانک سے کہ عمران خان سے ھم نے استعیفا لینا ہے۔ لیکن کیا وہ ایسا کر پائین گے؟ عمران خان نے اپنے ستائیس مارچ والے جلسے مین یہ بڑا انکشاف کر ڈالا ہے کہ عالمی قوتیں ان کی سرکار کو تبدیل کر کے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو نئے رخ مین لانے کی کوشش کر رھی ھین۔ اب یھان سوال یہ ہے...
TEHRAN (Tasnim) – Secretary General of the Lebanese Hezbollah resistance movement Seyed Hassan Nasrallah and Iranian Foreign Minister Hossein Amirabdollahian met in Beirut on Thursday for talks on the latest regional developments. The top Iranian diplomat and the Hezbollah chief exchanged views on regional issues, with a particular focus on Palestine and Lebanon, according to Iran's Ambassador to Beirut, Mojtaba Amani. Amani stated that Amirabdollahian and Nasrallah also discussed potential future events in the region, efforts to halt Israel's atrocities against Gaza, possible scenarios regarding the ongoing war, and the global collective responsibility concerning "the historic and determining development." On Wednesday, Amirabdollahian engaged in talks with Ziad al-Nakhala, Secretary General of the Gaza-based Islamic Jihad movement, Khalil al-Hayya, deputy chief of the political bureau of the Palestinian resistance movement Hamas in Gaza, and other o...