یوکرائن والے کرائسز جب شروع ھوئے تھے تو پوری دنیا اِس کے جیوپولیٹیکل پہلو پہ بات کر رہی تھی۔ لیکن اس جنگ کا ایک مذھبی پہلو بھی ہے جس پہ کم لوگ بات کر رہے تھے۔یورپی یونین اور نیٹو اتحاد مین جو غالب ممالک ھین وہ اکثر کیتھولک عیسائیت کا نظریا رکھنے والے ممالک ھین۔ جب کے روس اور مشرقی یورپ کے اندر جو ممالک ھین جن مین سے بیشتر نیٹو اتحاد مین بھی نہین یہ سارے آرتھوڈوکس عیسائیت کا نظریا رکھنے والے ممالک ھین۔ اور یہ اھم بات ہے کہ کیتھولک عیسائیت اور آرتھوڈوکس عیسائیت کے درمیان صدیون سے ایک تضاد پایا جاتا رہا ہے۔ ارتھوڈوکس عیسائیت کے مذھبی پیشوائون کو ہتریاکس کہتے ھین اور پتریاکس کوئی ایک نہین ھوتا آرتھوڈوکس عیسائیت مین لیکن کیتھولک عیسائیت کا مذھبی پیشوا پوپ ھوتا ہے اور پوپ ایک ھی ھوتا ہے۔ روس کے اندر جو آرتھوڈوکس عیسائیت کے پتریاکس ھین وہ کھل کے اس جنگ مین روس کی حمایت کرتے نظر آئے کہ پیوٹن جو کچھ کر رہا ہے بلکل ٹھیک کر رہا ہے۔ یھان غور طلب بات یہ ہے کہ روس کی طرح یوکرائن بھی آرتھوڈوکس عیسائیت کا مرکز رہا ہے اور یوکرائن کا جو مرکزی چرچ رہا ہے وہ ماسکو کے مرکزی چرچ کے نیچے رہ...
TEHRAN (Tasnim) – Secretary General of the Lebanese Hezbollah resistance movement Seyed Hassan Nasrallah and Iranian Foreign Minister Hossein Amirabdollahian met in Beirut on Thursday for talks on the latest regional developments. The top Iranian diplomat and the Hezbollah chief exchanged views on regional issues, with a particular focus on Palestine and Lebanon, according to Iran's Ambassador to Beirut, Mojtaba Amani. Amani stated that Amirabdollahian and Nasrallah also discussed potential future events in the region, efforts to halt Israel's atrocities against Gaza, possible scenarios regarding the ongoing war, and the global collective responsibility concerning "the historic and determining development." On Wednesday, Amirabdollahian engaged in talks with Ziad al-Nakhala, Secretary General of the Gaza-based Islamic Jihad movement, Khalil al-Hayya, deputy chief of the political bureau of the Palestinian resistance movement Hamas in Gaza, and other o...