امریکہ چائنہ کولڈ وار کے اندر ڈیٹا کی اھمیت روایتی ھتھیارون سے زیادہ ھو چکی ہے۔ سائبر سکیورٹی اب اس سطح پہ پہنچ چکی ہے ارتقائی مراحل طئہ کرتے ھوئے کہ جنگ کا پانسا پلٹنے کے لیے اب سب سے اھم بات یہ بن چکی ہے کہ کس فورس کے پاس کتنی ڈیٹا ہے اور وہ اس کو کس طرح استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آج کے دور مین ڈیٹا ایک کموڈٹی بن چکا ہے اور عالمی طاقتون کی سکیورٹی اسٹیبلشمینٹس کے درمیان مقابلہ ھی اسی بات پہ ھو رہا ہے کہ کس کے پاس کتنا ڈیٹا موجود ہے اور پھر یہ ڈیٹا آرٹیفیشل انٹیلیجنس ، مشین لرننگ سے لے کر سائبر اور الیکٹرانکس وارفیئر تک ھر جگہ استعمال ھو رہا ھوتا ہے۔ اب ایسے مین انڈیا کا جو حریف نمبر ایک ہے چائنہ یہ تو دنیا کے اندر سب سے طاقتور فورس تصور کیے جاتے ہین جنگون کی ان نئی ڈومینز مین لیکن انڈیا کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ جس ملک کی وہ ھیلپ لے کر چین سے لڑنی کی کوشش کر رہے تھے یعنی روس ، اس کے چائنہ کے ساتھ انتہائی مظبوط سیاسی معاشی اور دفائی تعلقات ھین۔ اور ان کے بیچ ایک گھری فوجی انٹرآاپریبلٹی موجود ہے کیون کہ یہ دونون ملک امریکہ کو خم اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتے ھین۔ لھاذا اسی...
TEHRAN (Tasnim) – Secretary General of the Lebanese Hezbollah resistance movement Seyed Hassan Nasrallah and Iranian Foreign Minister Hossein Amirabdollahian met in Beirut on Thursday for talks on the latest regional developments. The top Iranian diplomat and the Hezbollah chief exchanged views on regional issues, with a particular focus on Palestine and Lebanon, according to Iran's Ambassador to Beirut, Mojtaba Amani. Amani stated that Amirabdollahian and Nasrallah also discussed potential future events in the region, efforts to halt Israel's atrocities against Gaza, possible scenarios regarding the ongoing war, and the global collective responsibility concerning "the historic and determining development." On Wednesday, Amirabdollahian engaged in talks with Ziad al-Nakhala, Secretary General of the Gaza-based Islamic Jihad movement, Khalil al-Hayya, deputy chief of the political bureau of the Palestinian resistance movement Hamas in Gaza, and other o...